ماہ ذی الحجہ: اہمیت اور خصوصیات -* سید مشتاق، قومی صحافی، NR News India جموں کشمیر، چیئرمین جموں کشمیر مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی۔۔

اس پورے عشرہ میں اسلام کے اہم ترین اعمال انجام دئیے جاتے ہیں اور عبادتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، عشرہ ذی الحجہ میں روزے رکھنے کی فضیلت آئی ہے، قربانی دینے والوں کو بال و ناخن کاٹنے سے روکا گیا، تکبیرات تشریق کہنے کا حکم دیا گیا، حج جیسی عظیم عبادت انجام دی جاتی ہے اور قربانی کا اہم ترین عمل بھی اسی میں کیا جاتا ہے، اسی دن مسلمانوں کی دوسری بڑی اور اہم عید عید الاضحی منائی جاتی ہے، ان تمام خصوصیات کی بناء پر اس عشرہ کی اہمیت اور افضلیت دو چند ہوجاتی ہے، ان اعما ل کو قدرے تفصیل کے ساتھ ملاحظہ کیجئے اور عملی زندگی میں انہیں شامل کیجئے!*
– – عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ، وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ– (صحیح مسلم، الأضاحي، باب نهى من دخل عليه عشر ذي الحجة وهو يريد التضحية أن يأخذ من شعره…:۱۹۷۷) ایک دوسری روایت میں اس بات کی وضاحت ہے کہ یہ پابندی قربانی کرنے تک ہے، صحیح مسلم اور سنن ابو داود میں یہ الفاظ بھی مروی ہیں: فَلاَ یَاْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِہٖ وَ لاَ مِنْ اَظْفَارِہٖ شَیْئًا حَتّٰی یُضَحِّيَ — ’’وہ اپنے جانور کو ذبح کرلینے تک اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔‘‘ (صحيح مسلم:١٣/١٣٩- سنن ابی داؤد:٢٧٩١) المستدرک على الصحيحين میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے: “ﺇﺫا ﺩﺧﻞ ﻋﺸﺮ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ ﻓﻼ ﺗﺄﺧﺬﻥ ﻣﻦ ﺷﻌﺮﻙ ﻭﻻ ﻣﻦ ﺃﻇﻔﺎﺭﻙ ﺣﺘﻰ ﺗﺬﺑﺢ ﺃﺿﺤﻴﺘﻚ” یعنی یہ ناخنوں اور بالوں کی پابندی قربانی کرلینے تک ہے – (مستدرک حاکم:٧٥١٩) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل مبارک سے بھی یہی پتہ چلتا ہے، مؤطا امام مالک میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے قربانی کے بعد سر کے بال کٹوائے – – “ﻓﺤﻠﻖ ﺭﺃﺳﻪ ﺣﻴﻦ ﺫﺑﺢ اﻟﻜﺒﺶ، ﻭﻛﺎﻥ ﻣﺮﻳﻀﺎ ﻟﻢ ﻳﺸﻬﺪ اﻟﻌﻴﺪ ﻣﻊ اﻟﻨﺎﺱ” (موطا ﺑﺎﺏ ﻣﺎ ﻳﺴﺘﺤﺐ ﻣﻦ اﻟﻀﺤﺎﻳﺎ) بعض آثار سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ پابندی تمام گھر والوں پر ھے، چنانچہ حضرت نافع، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق روایت کرتے ہیں : “أﻥ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﻣﺮ ﺑﺎﻣﺮﺃﺓ ﺗﺄﺧﺬ ﻣﻦ ﺷﻌﺮ اﺑﻨﻬﺎ ﻓﻲ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﻌﺸﺮ ” عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان دس دنوں میں ایک عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے بیٹے کے بال کاٹ رہی تھی، تو آپ نے فرمایا: “ﻟﻮ ﺃﺧﺮﺗﻴﻪ ﺇﻟﻰ ﻳﻮﻡ اﻟﻨﺤﺮ ﻛﺎﻥ ﺃﺣﺴﻦ” – – اگر تو اسے قربانی کے دن تک مؤخر کردیتی تو بہتر ہوتا – (مستدرک للحاکم:٧٥٢٠) خیال رہے کہ یہ حکم مستحب ہے اور ان لوگوں کیلئے جو قربانی دینے والے ہوں، چاند دیکھنے سے لے کر جب تک کہ ان کی طرف سے قربانی نہ ہوجائے اس وقت تک سر کے بالوں اور دیگر بالوں کو نکالنے اور ناخن کاٹنے سے احتیاط کرنا چاہیے، جو لوگ قربانی دینے والے نہیں ہے ان کیلئے یہ حکم نہیں ہے؛ تاہم بعض شارحین حدیث ان کیلئے بھی اس عمل کو بہتر قرار دیتے ہیں، اگر کوئی شخص قربانی دینے سے پہلے ایسا کرلے تو کوئی گناہ نہیں اور اس سے قربانی میں کوئی خلل نہیں آتا۔* ( ذوالحجہ اور قربانی کے فضائل و احکام: ٣٤)