April 19, 2026

NR INDIA NEWS

News for all

جہیز سوداگروں کو چھوڑ، غریب تعلیم یافتہ ہونہار بچوں سے بیٹا بیٹی کا رشتہ جوڑیں / دانشوران

جہیز سوداگروں کو چھوڑ، غریب تعلیم یافتہ ہونہار بچوں سے بیٹا بیٹی کا رشتہ جوڑیں / دانشوران

اپنے رشتے داروں میں ہی بیٹا بیٹی کا رشتہ جوڑیں اس میں فلاح ہے / مکھیا مصطفیٰ حسن

حاجی پور / عادل شاہ پوری / کسی بھی ذاتی دھرم میں بیٹا بیٹی کی شادی بیاہ کے موقع سے جہیز کا مطالبہ ناسور بن چکا ہے جس میں معاشرے کے سیٹھ شاہوکار یعنی مالدار لوگ کا اہم رول رہا ہے اور ابھی تک یہ لوگ اپنے بیٹا بیٹی کی شادی کو آسان بنانے کے لئے تیار نہیں ہیں اور اس جہیز کے وجہ سے خاص کر مسلم معاشرے کی لڑکیاں کثیر تعداد میں عمر رفتہ کے دن گن رہے ہیں اور بہت خود کشی بھی کررہی ہیں اس کے ذمے دار کون ؟ اسی تعلق سے مردم خیز مسلم دانشوروں کا قصبہ ہدایت پور میں ایک خصوصی نشست میں دانشوروں نے اپنے تاثرات میں کہا کہ مہنگائی سرچڑھ کر بول رہی ہے فی الوقت اپنا اپنا گھر چلانا مشکل ہورہا ہے اور شادی بیاہ کے موقع سے ہلدی میں اور شادی میں بے بہا خرچ اللہ کی پناہ ۔ دانشوروں نے التماس کے ساتھ کہا کہ ہرحال میں شادی کو آسان بنانے کےلئے ایک مہم چلا کر معاشرہ میں تحریک چھیڑی جاۓ تاکہ لڑکی والے کا جان بچ سکے اور شادی آسان ہوسکے اور گھر کی زمین بکنے سے بھی بچ سکے وہیں دانشوروں نے غور طلب بات کرتے ہوئے کہا کہ مالدار ، زردار اور جہیز سوداگروں کو چھوڑ کر اپنے بیٹا اور بیٹی کا بیاہ غریب، عزت دار ، ہونہار ، دیندار گھروں میں کھوج کر بیٹا بیٹی کا رشتہ جوڑنے کا پر عزم کریں اور اپنی بیٹی کا مقدر اپنے ہاتھوں سے لکھنے کی کوشش نہ کریں نہیں تو گیس سے بھرا ہوا غبارہ والا رشتہ کہیں بھی پھوٹ سکتا ہے اور ذلالت کے ساتھ رسوائی مقدر بن سکتی ہے جس کا مثال سماج میں دیکھیں تو آپ سب کو مل جائے گا اور اس ناز اور نکھڑے والی شادی میں بے زبان اور خاموش لڑکی کی زندگی عذاب بن جاتی ہے وہیں اس موضوع پر جد یو اقلیتی سیل ضلع ویشالی صدر سابق مکھیا مصطفیٰ حسن چاند پور فتح پاتے پور ، سماجی اور سیاسی خادم مکھیا ہاشم انصاری بکساواں شریف ، سماجی سیاسی ملی خادم جناب عبد اللہ انصاری مدھول مہوا ، صحافی و شاعر اعجاز عادل شاہ پوری ، راجد لیڈر سماجی خادم عبد القدوس انصاری مکند پور پاتے پور ، نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب لوگوں کو اللہ نواز دیتا ہے تو خویش و اقرباء کو چھوڑ کر برادری کے لئے چھلانگ لگانا شروع کردیتے ہیں اور ان کے خویش و اقرباء دکھ سکھ میں ساتھ دینے والا رشتہ کے قابل نہیں رہتا بڑے افسوس کی بات ہے اس لیے ہم گزارش کرتے ہیں ایسے سوچ اور فکر کرنے والوں سے اپنے مٹی پہ اپنے رشتہ داروں میں ہی بیٹا بیٹی کا رشتہ کو قائم کریں کیونکہ بہت ساری آفت مصیبت سے نجات پائیں گے اور یہ طریقۂ سنت رسول اللہ صلی اللہ بھی ہے آپ غور کریں تو معاشرے میں کئ ایسی شادی ہوتی رہتی ہے جس میں لاکھوں اور کروڑوں روپیہ شادی میں خرچ کرتے اور شادی کے کچھ ہی دن بعد طلاق کی نوبت آجاتی ہے اس کے علاوہ بھی چھوٹی بڑی شادی کا بھی یہی حال ہے لوگ شادی تو ڈھول بجاکر فضول خرچی کر لیتے ہیں لیکن شادی جب بربادی کا روپ اختیار کرتی ہے تو قوم کے دانشوروں کا نیند حرام کردیتے ہیں ساتھ ہی شرعی عدالت میں قاضئ شہر کو بھی سانس لینا بند کردیتے ہیں آج بیٹی والے کا پنچایت تو کل لڑکا والے کا پنچایت دانشور اس لڑکا اور لڑکی کی چکی میں پس جاتے ہیں اس نشتت میں آل انڈیا مومن کانفرنس کے ضلع ویشالی صدر و ملی سماجی سیاسی رہبر و رہنما جناب محمد حسین انصاری انصار نگر ڈوگرہ ، ماسٹر محمد ارشاد انصاری ، ماسٹر محمد امتیاز انصاری ڈوگرہ ، ڈاکٹر توصیف احمد کولکاتا ، جناب محمد نسیم ہدایت پور و سماجی سیاسی ملی خادم و سابق مکھیا ڈاکٹر محمد محسن انصاری ٹکناری پاتے پور ، راجد پارٹی کے پاتے پور بلاک صدر شاعر مقبول احمد شہباز پوری ، ملی اور سماجی خادم محمد صغیر انصاری گوبند پور سنگھارہ ، محمد سیراج احمد پروپرائٹر کنگ شو مہوا ، ماسٹر سیراج الحق فیضی ہدایت پور ، ملی کارکن محمد طفیل انصاری ہدایت پور ، ملی رہنما و خادم محمد محفوظ عالم ہدایت پور ، سرپنچ سوندھو گلزار باغ بلاک گورول محمد ممتاز انصاری سمیت کئی اہم شخصیات کی شرکت ہوئی اور اجتماعی طور پر مندرجہ بالا باتوں کی تائید کی

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.