صرف مدرسے کا قیام دین و دنیا کا حل نہیں،بچوں کے تعلیم پر توجہ دیں علماء کرام / امتیاز ندوی
صرف مدرسے کا قیام دین و دنیا کا حل نہیں،بچوں کے تعلیم پر توجہ دیں علماء کرام / امتیاز ندویم
ہواویشالی/ عادل شاہ پوری/ اسلام سے پہلے دنیا کے پاس علم کا کوئی واضح تصور نہیں تھا اسلام نے پہلی بار اس دنیا کے سامنے علم کا واضح اور مؤثر تصور پیش کیا قرآن و حدیث میں اس کی بکثرت شواہد موجود ہیں آقاۓ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن حکیم کی جو سب سے پہلی آیت نازل ہوئی اس کی ابتدا ہی اقراء سے ہوئی ہے آیت پاک کا مفہوم ہے کہ اے محبوب آپ پڑھیے اللہ کے نام سے جس نے آپ کو پیدا کیا ۔ علم کی اہمیت کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی ہوتا ہے کہ کفار مکہ اسلام اور بانئ اسلام کے بدترین دشمن تھے کفار مکہ سے اسلام کی اولین جنگ جنگِ بدر ہے بدر کے درمیان میں کفار مکہ کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا اس کے بہت سارے سردار قتل ہوئے اور بہت سارے قیدی بنا لیے گئے اسلام کا ابتدائی دور تھا اور اسلام غربت کا شکار تھا اس لیے یہ فیصلہ لیا گیا کہ فدیہ دے کر قیدی آزاد ہو سکتے ہیں ان قیدیوں میں کچھ ایسے افراد بھی تھے جن کے پاس فدیہ دینے کی صلاحیت نہیں تھی ان کے لیے آقا ۓ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان جاری فرمایا کہ جن کے پاس فدیہ دینے کی صلاحیت نہیں ہے تو ایسے قیدی مدینہ منورہ کے 10 دس 10 بچوں کو صحیح تعلیم دیں اور آزاد ہوجائیں ۔ یہ ہے علم کی اہمیت جو روشن باب کی طرح عیاں ہے ہمیں افسوس ہے کہ سالوں سال مدرسہ اسلامیہ کے نام پر علماء حضرات قوم کے گاڑھی کمائی کا چندہ حاصل کرتے ہیں صبح شام ایک نئے مدرسے کا قیام بھی عمل میں لاتے رہتے ہیں اور بچے بھی پڑھتے رہتے ہیں۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ علماء ان بچوں کو صحیح تعلیم دینے سے قاصر ہیں جبکہ قوم مسلم جہاں تک ہوتا ہے اچھی خاصی رقم مدرسہ کے نام پر تعاون فرماتے ہیں حیرت اس بات کی ہوتی ہے کہ مدارس اسلامیہ کے علماء اور اساتذہ آقا ۓ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عشق کا دعوی تو کرتے ہیں لیکن عملی طور پر محبت اور عشق کا دعوی سے ہزاروں میل دور نظر اتے ہیں ہمیں پورا یقین ہے کہ ان نونہالوں پر علماء اپنے علم کا ایک چوتھائی حصہ اپنی گاڑھی محنت سے صرف کر دیں تو مسلمان کا بچہ تعلیمی ، معاشی، اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ سیاسی طور پر بھی کامیاب ہوجائیں گے اور ہماری پسماندگی بھی دور ہو جائے گی واضح ہو کے غربت ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہوتی تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں نے غربت میں بھی اپنا اعتبار بنایا ہے اور اسے برقرار بھی رکھا ہے اس سلسلے میں صحابہ کرام کی زندگی مثال پیش کرتی ہے وہیں صوفیاء کی کثیر جماعت بھی بھی اس سلسلے میں ہمارے سامنے موجود ہے آپ نے دیکھا ایک خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی علیہ رحمۃ الرضوان نے پورے ملک کی کایا پلٹ دی مسلمان اگر صوفیا کی زندگی کو عملی طور پر نمونہ بنائیں تو حالات آج بھی بدل سکتے ہیں صوفیاء کی جماعت علم عمل اور عشق کی روشنی سے مامور ہوا کرتی تھی اس لیے مسلمانوں کو سب سے پہلے حصول علم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے علم کے بعد عمل ہے اور پھر عشق ہے علم ہو اور عمل نہ ہو تو وہ علم حجاب ہے عمل ہو اور عشق نہ ہو تو عمل مؤثر نہیں اگر ان تینوں شعبوں میں ہم کامیاب ہو گئے تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں آگے بڑھنے سے روک نہیں سکتی اور مسائل ہمیں دیکھ کر اپنا راستہ بدلنے پر مجبور ہو جائیں گے یہ باتیں نمائندہ سے بذریعہ فون پر کہا انہوں نے اپنی بات علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے شعر پر ختم کیا
اج بھی ہو جو ابراہیم سا ایماں پیدا
اگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا
