April 22, 2026

NR INDIA NEWS

News for all

میلاد النبی کے فوائد و فضائل مع دلائل مقبول احمد شہبازپوری

میلاد النبی کے فوائد و فضائل مع دلائل مقبول احمد شہبازپوری

 

تیغی اکیڈمی ٹرسٹ کے صدر تنظیم آل بہار ائمہ مساجد کے چیئرمین راجد لیڈر مقبول احمد شہبازپوری نے ایک پریس کانفرنس کر کے بتایا ہے کہ نبیِ کریم علیہ الصلاۃ و التسلیم کی پیدائش کی خوشی منانا صرف جائز و مباح ہی نہیں بلکہ مستحب و مستحسن جامع حسنات و برکات باعثِ نزولِ انعامات و رحمات سامانِ مغفرت و نجات کارِ ثواب و عبادات سببِ علوِ درجات ضامنِ رضائے رسول و رحمان مؤجبِ امن و امان اور خیرِ کثیر و اجرِ عظیم اور دارین میں فلاح و کامرانی کا نہایت نفیس ترین و اعلیٰ ذریعہ ہے،
یوں تو جان و مال اور اولاد وغیرہ سب ہمارے لئے نعمت ہیں مگر ہم اہلِ ایمان کے لئے کائنات کی سب سے عظیم نعمت آقائے کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہے جس طرح ہم اور انعاماتِ الہٰیہ کے ملنے پر خوشی و مسرت کا اظہار کرتے اور اسکی یاد مناتے ہیں اس سے کہیں زیادہ ہم پر یہ حق بنتاہے کہ ہم اپنے عظیم محسن و منعم کی ولادت کا جشن اور ان کی یاد منائیں،
اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ-هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ یونس: ۵۸ تم فرماؤ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں، اللہ کے نبی صلی تعالیٰ علیہ وسلم ساری کائنات کےلئے رحمت و راحت ہیں وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا اور فرماتاہے وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠ اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو اس میں شک نہیں کہ آپ سب سے بڑی نعمت ہیں اس لئے کہ ہمیں عید و بقرہ عید شبِ برات و شبِ قدر رمضان قرآن ایمان بلکہ خود ربّ رحمان جوکچھ ملا یہ سب میرے مصطفیٰ کریم علیہ الصلاۃ و التسلیم کے صدقہ و توسل سے ملا چنانچہ حدیثِ قدسی ہے رب فرماتاہے لولاہ لما اظھرت الربوبیت اگر وہ یعنی میرا محبوب نہ ہوتا تو میں اپنا رب ہونا بھی ظاہر نہ فرماتا، لیلة القدر کتنی عظیم رات ہے کہ ہزار مہینوں سے افضل ہے لَیْلَةُ الْقَدْر خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ مگر علماء فرماتےہیں لیلة مؤلدہ افضل من لیلة القدر کہ آپ کی ولادت کی رات لیلة القدر سے بھی افضل ہے
*میلاد النبی فقہاء و محدثین کی نظر میں*
*میلاد سامانِ فرحت و نجات۔*
افراح المسلمین بمولد خاتم النبیین، اور انسان العیون، میں ہے بعض صالحین خواب میں زیارتِ جمالِ اقدس سے مشرف ہوئے عرض کی یا رسول اللہ یہ جو لوگ ولادتِ حضور کی خوشی کرتےہیں فرمایا من فرح بنا فرحنا بہ جو ہماری خوشی کرتاہے ہم اس سے خوش ہوتےہیں فتاویٰ رضویہ، ج23، ص55
امام جمالُ الدّین الکتانی لکھتے ہیں حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت کا دن نہایت ہی معظّم مقدّس اور محترم و مبارَک ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود پاک اتّباع کرنے والے کے لئے ذریعۂ نجات ہے جس نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا اس نے اپنے آپ کو جہنّم سے محفوظ کرلیا لہٰذا ایسے موقع پر خوشی کا اظہار کرنا اور حسبِ توفیق خرچ کرنا نہایت مناسب ہے سبل الہدیٰ والرشاد،ج1،ص364

*میلادالنبی باعثِ فلاح و اجر*
عرب ممالک میں 900 سو سال سے زائد محفلِ میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بڑے تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوتی تھی علامہ ابن جوزی بیان المیلاد النبوی میں لکھتےہیں مکہّ مکرمہ مدینہ طیبہ قبلِ نجدی حکومت مصر، شام، یمن، الغرض شرق تا غرب تمام بلاد عرب کے باشندے ہمیشہ سے میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محفلیں منعقد کرتے آرہے ہیں وہ ربیع الاوّل کا چاند دیکھتے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہتی چنانچہ ذکرِ میلاد پڑھنے اور سننے کا خصوصی اہتمام کرتے اور اس کے باعث بے پناہ اجر و کامیابی حاصل کرتے رہےہیں بیان المیلاد النبوی ص58
*سال بھر امن و امان* حضرت سیدنا امامِ قسطلانی بیان فرماتےہیں ولادتِ باسعادت کے ایام میں محفلِ میلاد کرنے کے خواص سے یہ امر مجربّ یعنی تجربہ شدہ ہےکہ اس سال امن و امان رہتاہے مواہب اللدنیہ ج1 ص78 *میلاد شریف منانا اعظم عبادات سے ہے*
علامہ ابنِ عابدین شامی قدس سرہ السامی فرماتےہیں نبیِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے میلادشریف سننے کےلئے جمع ہونا اعظم عبادات سے ہے کیونکہ میلاد شریف میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر بکثرت صلاة و سلام پڑھا جاتاہے اور اللہ اور اس کے رسول کا ذکر بار بار کیا جاتا ہے آپکے ذکر سے محبت آپ کے قرب کا ذریعہ ہے اور جلیل القدر علما نے تصریح کی ہے کہ جس سال میلاد منایا جائے امان رہتی اور مقصد میں کامیابی کی جلد بشارت ملتی ہے شرح المولد لابنِ حجر بحوالہ جواہر البحار ج3 ص340 *محفلِ میلاد جامع حسنات و برکات* اخبار الاخیارمیں امام المحدثین شیخ عبدالحق محدّث دہلوی علیہ الرحمہ ربّ القوی کی دعا مذکور ہے اے اللہ میرا کوئی عمل ایسا نہیں جسے تیری بارگاہ میں پیش کرنے کے لائق سمجھوں میرے تمام اعمال میں فسادِ نیت موجود رہتی ہے البتّہ مجھ فقیر کا ایک عمل صرف تیری ذاتِ پاک کی عنایت کی وجہ سے بہت شاندار ہے اور وہ یہ ہےکہ مجلسِ میلاد کے موقع پر کھڑے ہوکر سلام پڑھتا ہوں اور بہت ہی عاجزی و انکساری محبتّ و خلوص کےساتھ تیرے حبیبِ پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجتا ہوں اے اللّٰہ وہ کون سا مقام ہے جہاں میلادِ مبارک سے زیادہ تیری خیر و برکت کا نزول ہوتاہے اس لئے اے ارحم الراحمین مجھے کامل یقین ہےکہ میرا یہ عمل کبھی بیکار نہ جائیگا بلکہ یقیناً تیری بارگاہ میں قبول ہوگی اور جو کوئی درود و سلام پڑھے اور اس کے ذریعہ دعا کرے وہ کبھی مسترد نہیں ہوسکتی ص624
*مژدۂ جنت*
جوکوئی کامل اعتماد کمالِ شوق و محبت اور اخلاص کے ساتھ میلاد شریف منعقد کرے اور اس پر ایک درہم بھی خرچ کرے تو اس کےلئے جنت میں یار غارِ مصطفیٰ حضرتِ ابوبکر صدیق رضی تعالیٰ عنہ کی رفاقت کی بشارت ہے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود بیان فرماتےہیں من انفق درھما علی قراة مولد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کان رفیقی فی الجنۃ النعمة الکبریٰ علی العالم فی مولد سید ولد آدم للامام العالم العلامۃ شھاب الدین احمد ابنِ حجر الھیثمی الشافعی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ۔ و899ھجری۔ ف974 ھجری اسی محفلِ میلاد کے ضمن میں حضرت عمر و عثمان و علی رضی اللہ عنہم و حضرت امام حسن بصری حضرت جنید بغدادی، شیخ معروف کرخی، امام فخرالدین رازی، امام شافعی، حضرت السر السقطی اور امام جلال الدین سیوطی علیہم الرحمہ کے ارشاداتِ عالیہ بھی مذکورہ کتاب میں درج ہے جھنڈےلگانا، جلوس نکالنا۔ جھنڈا لگانا یہ حضرت جبریل علیہ السلام کی سنت ہے جیسا کہ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ سَیِّدَتُنا آمِنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں میں نے دیکھا کہ تین جھنڈے نَصْب کئے گئے ایک مشرِق میں دوسرا مغرِب میں تیسرا کعبے کی چھت پر اورنبیِّ رَحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی وِلادت ہوگئی خَصائِصِ کُبریٰ ج۱ص۸۲ مختصراً بحوالہ عاشقان رسول کی حکایت ص 210
نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس دنیا میں جلوہ فرما ہونے کی وجہ سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم و توقیر کیلئے جلوس نکالنا پرچم لہرانا، اور جلوس میں شرکت کرنا اور اپنی اپنی استطاعت کے مطابق چراغاں اور روشنی کرنا جائز و مستحسن ہے اور مسلمان آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی ولادت باسعادت کے موقع پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم و توقیر کیلئے جلوس نکالتے ہیں، خوشیوں کا اظہار کرتے ہیں اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم وتوقیر کے لئے جو جائز کام کیا جائے اور اس میں کسی قسم کی خرابی بھی نہ ہو وہ جائز ومستحسن ہے
حوالہ بنیادی عقائد معلوماتِ اہلسنت ص 127، المکتبۃ المدینہ
*ثبوتِ میلاد کتبِ اکابرینِ دیوبند سے*
علماء دیوبند کے پیر و مرشد حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے میلاد منانے کامعمول و طریقہ فیصلہ ہفت مسئلہ، میں درج ہے۔ وہ کہتے ہیں مشرب فقیر کا یہ ہے کہ محفلِ مولود میں شریک ہوتاہوں بلکہ ذریعۂ برکات سمجھ کر منعقد کرتاہوں اور قیامِ میلاد میں لطف و لذت پاتا ہوں، کلیاتِ امدادیہ، فصلہ ہفت مسئلہ ص7
حاجی صاحب مزید فرماتےہیں میلاد شریف تمامی اہلِ حریمین کرتےہیں اسی قدر ہمارے واسطے حجت کافی ہے، شمائم امدادیہ ص47
غیرمقلد وہابیوں کے پیشوا نواب صدیق حسن بھوپالی غیر مقلد وہابی لکھتےہیں جسے آپ (ﷺ)کے میلاد کا حال سن کر اور آپ کے میلاد کی خوشی نہ ہو وہ مسلمان نہیں، اور واقعہ شقّ صدر چار بار ہوا الشمامةالعنبریہ، ص12
اور دیوبند کے امام اشرفعلی تھانوی لکھتے ہیں بلا اختلاف حضور ﷺ اللّٰہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت اور اس کا کامل ترین فضل ہیں۔ اس لئے اس آیتہ کریمہ سے بدلالةالنص یہ بھی مراد لیا جاسکتاہے کہ یہاں رحمت و فضل سے مراد حضور ﷺہیں۔ جن کی ولادت پر اللہ تعالیٰ خوشی منانے کا حکم دے رہاہے، مجموعہ خطبات بنام میلادالنبی، از مولانا اشرفعلی تھانوی، ص120-121، مطبوعہ جیلی خانہ لاہور

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.