آج بعد نماز جمعہ مہوا شاہی مسجد کے, باہر تیغی اکیڈمی ٹرسٹ کے بینر تلے مسلمانان مہوا ویشالی نے ,گستاخ رسول کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا, اس بھیڑ سے ضلع ویشالی کے قاضی شریعت مفتی محمد علی رضا مصباحی صاحب نے, پیغمبر اسلام کے شان میں گستاخی کے خلاف نرسنگھانند کو جلد ازجلد گرفتاری کر پھانسی کی مانگ کرتے ہوئے, اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ آپ کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہوگی کہ, ادھر کچھ دنوں سے اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف کچھ شرپسندوں نے, مسلسل بدزبانی کرکے ملک کے امن وامان کو بگاڑنا چاہ رہا ہے, پہلے فرانس کے صدر پھر وسیم رضوی کی مثال آپکے سامنے ہے، ابھی چند روز قبل ایک اور خبیث, نرسنگھانند نے بھی ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کی ہے ,اور ہمارے جزبات کو ٹھیس پہنچائی ہے، یاد رہے ہم سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور توھین کبھی برداشت نہیں کر سکتے، تیغی اکیڈمی ٹرسٹ کے چیئرمین مقبول احمد شہبازپوری نے علماء اور عوام سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ, تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی اہمیت اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کے عنوان پر تقریر کے ذریعہ عوام اہل سنت میں, بیداری لائیں اور گستاخ رسول نرسنگھانند کے خلاف اپنی ذمہ داریوں کا احساس کروائیں, اور اس شیطان لعین کے خلاف احتجاج کا بھی اہتمام کریں, تا کہ جو لوگ نا واقف ہیں ان کو بھی پتہ چل جائے ,لیکن احتجاجی مظاہرہ کرتے وقت ہندوستانی آئین و قوانین کا پورا پورا خیال رکھیں, اور پرامن طریقے سے اپنی بات حکومت وقت تک پہونچانے کی کوشش کریں, اور اپنی بیداری وزندہ دلی کا ثبوت پیش کریں ,ہم مسلمانوں کی یہ تاریخ رہی ہے کہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے ہم نے اپنی جان، اپنا مال، اپنی عزت وآبرو اور اپنی آل اولاد سب کچھ قربان کیا ہے ,اور اب بھی وہ جزبہ رکھتے ہیں, اگر حکومت ہند اس پہ کوئی قدم نہیں اٹھایا تو اس سے بھی بڑا احتجاجی مظاہرہ کریں گے, اور سرکار اور پولس پرساشن کو اس پہ کاروائی کرنے پہ مجبور کردینگے۔ شاھی مسجد کے امام مولانا محمد صدام صاحب، مولانا مستقیم صاحب، مولانا رئیس احمد صاحب، حافظ سعید تیغی، حافظ توقیر سیفی، غلام مرتضیٰ، حاجی فہیم، آس محمد، محمد فاروق ٹیلر، صابر حسین، کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے اس مظاہرے میں شرکت کی۔