بیٹیوں کی اعلیٰ تعلیم سے ہی بہتر سماج بن سکتا ہے / شبانہ فردوس مہوا ویشالی
بیٹیوں کی اعلیٰ تعلیم سے ہی بہتر سماج بن سکتا ہے / شبانہ فردوس
مہوا ویشالی /امتیاز عادل / شعبۂ اردو بہار یونیورسٹی مظفر پور کی طالبہ شبانہ فردوس ،انٹر میڈیٹ کالج سیہان کی طالبہ نصرت جہاں ،مبشرہ خاتون ،روبینہ خاتون ،ناہید افضل ،نکہت پروین ، رانی خاتون ،رعنا ناز پھلواری شریف پٹنہ مشترکہ طور پر اس وقت نمائندہ سے ملاقات کر اپنی بات کو کہی جب انٹر میڈیٹ کے سالانہ امتحان میں اچھے نمبروں سے پاس کر سماج کا نام روشن کرنے کا کام کیا انہوں نے اپنے تعلیمی میدان سے متاثر ہو کر ایک خصوصی نشست کے درمیان عبدالقیوم انصاری اردو لائبریری شاہ پور خرد میں بیان میں کہا کہ بلا تفریق کسی بھی سماج کو تہذیب و تمدن سے آراستہ کر نے کے لئے بیٹیوں کی اعلیٰ تعلیم و تربیت سے ہی ممکن ہو سکتا ہے کیونکہ کہ ایک تعلیم یافتہ بیٹی ایک فرد کو ہی تعلیم یافتہ نہیں بناتی ہے بلکہ اس کی تعلیم وتربیت کا اثر اس کے پورے خاندان کو متاثر کرتی ہے اور تعلیم یافتہ بناتی ہے اسلئے ہر ممکن کوشش کریں کہ آپ کے سماج کے ہر بیٹی تعلیم یافتہ بن سکے تاکہ آپ کا سماج آپ کا معاشرہ بہتر بن سکے اور بیٹیوں کو سماج میں برابری کا حق بھی مل سکے انہوں نے یہ بھی کہا کہ بظاہر تعلیمی میدان میں بیٹیوں کی تعداد زیادہ دکھنے کو ملتی ہے مگر اس کے ساتھ سماج کا جو رویہ ہے ناقابل برداشت ہے اسلئے کہ ہر صلاحیت کے باوجود یہ بیٹی دن کے اجالے میں اور رات کے اندھیرے میں جلائ جاتی ہے جو اسی سماج کے باشعور لوگ ہوتے ہیں میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ ایسی صورت میں کوئی بیٹی سماج کو کیسے بہتر بناسکتی ہے ساتھ ہی اپنے خاندان کو تعلیم و تربیت سے کیسے آراستہ کر سکتی ہے للہ اس کی غریبی اور بے بسی پر ترس کھائیں اور اس کی عزت اور وقار کو سماج میں پامال نہ ہونے دیں اور اللہ کی رحمت ہوں رحمت سے آپ سب کے گھروں کومجلی کردوں گے
