روزہ انسان کو ضبط نفس کے ساتھ کئ چھوٹے بڑے بیماریوں سے نجات دیتا ہے/ رعنا ، شبانہ ، ثانیہ
روزہ انسان کو ضبط نفس کے ساتھ کئ چھوٹے بڑے بیماریوں سے نجات دیتا ہے/ رعنا ، شبانہ ، ثانیہ
مہواویشالی/ عادل شاہ پوری /
ماہِ رمضان کی برکتوں، رحمتوں اور مغفرتوں کی برسات شروع ہوچکی ہے یہ ماہِ مقدس اللہ کی خوشنودی و رضا اور مغفرت کا مہینہ ہے ساتھ ہی روزہ صحت و تن درستی کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ عام طور پر لوگوں کا عبادات کی طرف رجحان قدرتی طور پر بڑھ جاتا ہے۔جوان،بچے اور بوڑھے سب بڑے شوق و ذوق سے دن میں روزہ رکھنے کا اہتمام، رات میں نمازِ تراویح کے ذریعے قیام کرتے ہیں پنجگانہ نماز کی ادائیگی باقاعدہ کی جاتی ہے حصول ثواب اور قربِ ذات باری تعالیٰ کے لیے ہر مسلمان دوسروں سے سبقت لے جانے کی کوشش میں ہوتا ہے اگر چہ نماز ، روزہ اللہ کی خوشنودی کا صدیوں سے ذریعہ چلا آرہا ہے لیکن جدید سائنسی اور طبی تحقیقات نے ان عبادات کی بدنی افادیت کو بھی ثابت کردیا ہے۔ روزہ ایسی عبادت ہے جس میں انسانی جسم اور روح دونوں شامل ہو تے ہیں روزہ محض بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں بلکہ فطرت کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی عملی مشق ہے روزہ صرف روحانی عبادت کا نام ہی نہیں ہے بلکہ یہ بدنی کسرت کا بہترین ذریعہ بھی ہے روزے کی مددسے موجودہ دور کے کئی خطرناک امراض سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے فی زمانہ انسانوں کی اکثریت بلڈ پریشر،یورک ایسڈ،کو لیسٹرول، موٹاپا ، جوڑوں کا درد ، بواسیر اور شوگر جیسے موذی اور خطرناک امراض کے نرغے میں پھنس چکی ہے اسلام کی دستوری کتاب قرآنِ پاک ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلامِ پاک میں فرمایا ہے اور خوب کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ نکلو،بے شک اللہ حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا حضرت محمدﷺ نے بھی اپنے پیروکارو ں کو بتایا ’’معدہ بیماری کا گھر ہے اور پرہیز ہر دوا کی بنیاد ہے اور ہر جسم کو وہی کچھ دو جس کا وہ عادی ہے روزہ پرہیز کے حوالے سے ہمیں بہترین مواقع فراہم کرتا ہے سارا دن بھوک و پیاس معدے میں جمع ہونے والے فاضل مادوں کو جلا کر جسم کو ان کے نقصانات سے محفوظ کر دیتی ہے طبی ماہرین کے مطابق روزہ بدن کی زکوٰۃ ہے۔ روزہ رکھنے سے انسان میں ضبطِ نفس کی صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں صبر استقامت اور حوصلے کے جذبات پیدا ہوتے ہیں روزے سے نفسانی و شہوانی خواہشات کمزور پڑ جاتی ہیں یوں انسان غلبہ شہوت کی فتنہ انگیزیوں سے محفوظ ہو جاتا ہے جس طرح مالی زکوٰۃ مال کو آلائشوں سے پاک کرتی ہے با لکل اسی طرح روزہ جسم کو غیر ضروری اور مضر مادوں سے پاک و صاف کرتا ہے ہائی بلڈ پریشر خون کے بڑھے ہوئے دباؤ کا نتیجہ ہو تا ہے۔ جب انسانی معدہ خالی ہوتا ہے تو وہ جسم میں پائی جانے والی اضافی چربیوں کو پگھلا کر مفید بنا دیتا ہےجگر میں جمع شدہ گلائیکوجن جس کی اضافی مقدار ٹرائیگلائسائیڈ کی شکل میں نقصان دہ ثابت ہو تی ہے بحالتِ روزہ توانائی کی شکل میںجسم کو توانائی مہیا کرنے کا باعث بن جا تی ہے۔ دورانِ ماہِ صیام دھیان رکھیں! غذا کے حوالے سے یہ بات ہر گز اہم نہیں ہوتی کہ ہم کتنا کھا رہے ہیں بلکہ اہم یہ ہے کہ ہم کیا کھا رہے ہیں۔ ہمارے بدن کی نشوو نما اور طبعی تبدیلیوں کا دارو مدارغذا پر ہوتا ہے۔اگر ہم اپنی جسمانی ضروریات، فطری رجحانات اور طبعی میلان کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے یومیہ غذا ؤں کا استعمال کریں تو یہ بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ہم 50 فیصد تک بیماریوں کے خطرات سے محفوظ ہو جائیں گے۔ اپنے ماحول کو آلودگی اور پرا گندگی سے بچا کر مزید20 فیصد امراض کے حملوںسے بچا جا سکتا ہےاور اگر ہم ہر حال میں راضی بہ رضائے خدا رہنا سیکھ لیں یعنی خود ساختہ پریشانیوں سے خود کو بچا لیں تو ہم 90 فیصد تک مختلف امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ بیماریوں کے حملوں اور اثراتِ بد سے بچنے کے لیے فطری غذائیں بہترین ہتھیار ہیں۔ فطری غذاؤں میں ہمارے لیے بیماریوں سے حفاظت اور شفا یابی کی مکمل صلاحیت پائی جاتی ہے۔ متوازن اور مناسب غذائیں ہمیں خاطر خواہ حد تک ضدی اور موذی امراض سے بھی محفوظ رکھتی ہیں متوازن اور مناسب غذائیں ایسے غذائی اجزاء پر مشتمل ہوتی ہیں جو ہمارے بدن کی بنیادی اورلازمی ضرورت ہوتے ہیں ان بنیادی اور لازمی غذائی اجزاء میں کیلیشیم ، پوٹاشیم ، فاسفورس ، گندھک ، جست ، فولاد،کیراٹین ،آیوڈین ،کاربوہائڈریٹس، وٹامنز اور پرو ٹینز وغیرہ شامل ہیں سحر و افطار کے اوقات میں منتخب غذائی اجزا کے استعمال سے ہم روزے کے فلسفے اور روح سے خاطر خواہ روشناس ہو سکتے ہیں ہمارے یہاںماہِ رمضان میں دن بھر روزہ رکھنے کے بعد خوب تلی غذاؤں کا دستر خوان پہ سجانا فیشن کی شکل اختیار کر چکا ہے سموسے ، پکوڑے ، کچوریاں اور دوسری بھنی ہوئی ڈشیں افطاری میں بڑے شوق سے شامل کی جاتی ہیں۔ لذت ، مزے اور چسکے کے چکر میں روزے کی بدنی افا دیت ختم ہوکر رہ جاتی ہے اور روزے کا مقصد بھی فوت ہوجاتا ہے روزے کا مقصد تو جسم کو فاضل مادوں اور آلائشوں سے پاک کرنا ہے جبکہ بسیار خوری اور غیر متواز ن خوراک کا بے دریغ استعمال فائدے کی بجائے نقصان کا باعث بنتا ہے۔ کیونکہ اگر ہم اپنے بدن کی غذائی ضرورت سے زیادہ چکنائیاں وغیرہ استعمال کرتے ہیں تو وہ جسم کے مختلف حصوں میں جمع ہو کر کئی ایک امراض پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں ایسے تمام غذائی اجزاء جو جسم کی ضرورت سے زیادہ ہوتے ہیں وہ چربیلے ذرات کی شکل میں جوڑوں میں جمع ہو کر جوڑوں کے درد ،گنٹھیا، نقرص ، موٹاپا اور کمر درد جیسے امراض پیدا کرتے ہیں۔اسی طرح یہی چربی خون میں شامل ہو کر خون گاڑھا کرکے کو لیسٹرول، شوگر اور بلڈ پریشر جیسے موذی عوارض کا باعث بنتی ہیں بعد ازاں یہی فاضل مادے گردوں پر اثر انداز ہو کر یوریا اور یورک ایسڈ کی زیادتی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یوں وہ خوراک جسے ہم اپنی صحت مندی اور تن درستی کے لیے استعمال کرتے ہیں، کئی ایک موذی امراض کو ہم پر مسلط کردیتی ہے ۔آج دنیا بھر میں اتنے لوگ بھوک اور افلاس سے نہیں مر رہے جتنے بسیار خوری سے مر رہے ہیں۔ لہٰذا یہ ہماری اپنی انفرادی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی خوراک میں توازن پیدا کریں،کھانے کے درمیانی وقفے کو مناسب رکھیں اور حفظانِ صحت کے اصولوں کو اپناتے ہوئے ایک خوشگوار ، خوشحال اور آسودہ زندگی گزارنے والے بن جائیں یہ باتیں مشترکہ طور محترمہ رعنا ناز پھلواری شریف پٹنہ ، انجم آرہ پٹنہ ، ثانیہ فرحت جمال استی پور حاجی پور و معلمہ اردو ہندی مفت کوچنگ سینٹر شاہ پور خرد و معلمہ مفت دینی منظم کلاس شاہ پور خرد محترمہ شبانہ فردوس صاحبہ نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی
تصویر میل پر ہے
