April 21, 2026

NR INDIA NEWS

News for all

مولانا نعیم الدین قاسمی ایک نابغہ روزگار شخصیت ۔ محمد شمیم احمد شمسی

مولانا نعیم الدین قاسمی ایک نابغہ روزگار شخصیت
۔ محمد شمیم احمد شمسی

سابق پرنسپل مدرسہ احمدیہ ابابکر پور ویشالی ۔

رپورٹ اعجاز عادل شاہ پوری مہواویشالی

مدرسہ احمدیہ کے قیام کے
بعد یہ خطہ جن نفوش قدسیہ کے فیوض و برکات ، امتیازات و کمالات، خصائص و مجہودات ، نصائح و بیانات ، پند و فرمودات سے مستفید ہوا، اور جن کی تو جہات و عنایات سے یہ خطہ پورے بہار میں علمی، ادبی، سیاسی اعتبار سے ایک اہم مقام رکھتا ہے، ان میں ایک نمایاں اور سرفہرست نام حضرت مولانا نعیم الدین صاحب قاسمی رح پہلے صدرالمدرسین مدرسہ احمدیہ کا ہے۔ آپ ازہر الھند دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتہ ،اور فارغ التحصیل تھے۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی رح کے تلمیذ رشید تھے۔ آپ زہد و تقوی کے ماہتاب ، علم و فضل کے آفتاب حامی قرآن و سنت ، واقف اسرارشریعت ، علم وعمل کے پیکر اور نمونۂ اسلاف تھے۔اپ کو وہ شہرت حاصل نہ ہو سکی جس کے اپ بجا طور پر مستحق تھے۔ اللہ تعالی نے اپ کو گوناگوں صفات حمیدہ سے نوازا تھا۔ اپ کی شخصیت جامع الکمالات تھی۔نہایت سادہ ، منکسر المزاج شریف النفس ، دیانت دار، عالم با عمل ، متبع سنت اور مایہ ناز عالم دین تھے۔ اپ موضع رحیم پور رکشا ضلع مظفرپورکے رہنے والے تھے۔اپ مدرسہ ھذا کے پہلے مدرس بھی تھے، اور اوّل صدر المدرسین بھی آپ ہی کو بنایا گیا آپ جب سے مدرسہ ھذا سے منسلک ہوئے تب ہی سے پوری محنت و لگن ، خلوص و للہیت کے ساتھ مدرسہ کی تعمیر و ترقی میں تادم حیات لگے رہے آپ نے مدرسہ احمدیہ کو صحیح معنوں میں “مدرسہ “بنانے میں اہم رول ادا کیا۔ بلاشبہ مولانا مرحوم عزم و حوصلہ سے ہم آہنگ ،بے لوث منتظم کار اور با کمال مدرس تھے۔ اپ نے نہایت ہی فعالیت اور حساسیت کے ساتھ گوشہ گمنامی میں رہ کر مدرسہ ھذا کی تعلیمی و تدریسی ، انتظامی اور علمی خدمات انجام دی ہے۔ حضرت مولانا بلند پایہ مدرس اور قدآور انسان تھے، جدو جہد اپ کا امتیازی وصف تھا۔ کتب بینی اپ کا محبوب مشغلہ تھا مدرسہ کی حیرت انگیز تعلیمی و تعمیری ترقیات آپ کی مرہون منت ہے۔
قیام مدرسہ ھذا کے روز اوّل سے مرحوم نے اپنی زندگی مدرسہ اور مدرسہ کی ترقی کے لئے وقف کر دی تھی۔ آپ اس ادارہ کی ترقی اور معیاری تعلیم کے لئے ، جہد مسلسل ، سعی پیہم کرتے رہے، اور اسے ترقیوں کی راہ پر گامزن کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے،
مولانا ایک بہترین مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ تعمیری و تنظمی کارنامہ انجام دینے میں یدطولی رکھتےتھے۔مولانا کے نزدیک درس و تدریس کی بڑی اہمیت تھی۔آپ کے حلقۂ درس میں شامل ہونے والے اکثر طلبہ بعد میں نامور علماء میں شامل ہوئے۔
مولانا مرحوم مدرسہ ھذا کے مدرس اعلی کے عنوان سے پہچانے جاتے ہیں۔اپ نے اس ادارہ میں بہ حیثیت پرنسپل ایک طویل مدت تک خدمات انجام دیں۔
اپ نے اپنی تدریسی ، دعوتی اور اصلاحی جدو جہد کے لمبے عرصہ میں بے شمار افراد کی تربیت فرمائی۔ ہزاروں ہزار افراد کو دین سے قریب کیااورحق سے روشناس کریا۔ اور لا تعداد اشخاص کو “صراط مستقیم” کی طرف رہنمائی فرمائی۔ سنہ۱۹۲۴ء سے مدرس اور صدر المدرسین کی حیثیت سے متواتر ۲۹/سالوں تک شاندار خدمات پیش کئے۔ اور مدرسہ کی تعمیر و ترقی میں “بانی مدرسہ “ کے شانہ بشانہ کھڑے رہے اور اس ادارہ کی ترقی و بلندی میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ مدرسہ ھذا کی جو فی الوقت ترقی یافتہ صورت ہے، دراصل اسی مرد قلندر کی پرخلوص محبتوں اور شب و روزکی محنتوں کا نتیجہ ہے۔
اپ نہایت شفیق ، نرم دل انسان تھے۔ دور دراز سے آئے ہوئے وابستگان علوم و فنون کو اپنے علم و حکمت سے فیضیاب کرتے،اور سینکڑوں نونہالوں کو اپنے مخصوص طرز تعلیم سے نوازتے۔طالبان علوم نبوت کے ساتھ نہایت شفقت و محبت سے پیش آتے۔ ان کی ضروریات کا پوراخیال رکھتے۔ ان کے تعلیمی سفر میں ان کی صحیح رہنائی کرتے ۔اللہ تعالی نے اپ کی شخصیت میں خاص کشش اور محبوبیت رکھی تھی۔ آپ عام و خواص میں محبت و عظمت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔جس مجلس و محفل میں ہوتے ممتاز و نمایاں نظر آتے ۔ اپ کی شہرت ایک اچھے عالم دین کے ساتھ ساتھ ایک اچھے معلم اور بافیض مدرس کی بھی تھی۔ آپ ہمیشہ مدرسہ ھذا کی تعمیر و ترقی میں لگے رہتے ۔ تمام تر صلاحیتیں اور توانائیاں اس ادارہ کی تعلیمی تربیتی معیار کو بلند کرنے میں صرف کر تے۔اور اپنے خون جگر سےاس “گلش علمی” کی آبیاری کرتے۔ اوراسے ایک ایسا تواناں علمی منبہ و گلشن بنا دیا ، جس میں نہ جانے کتنےچشمے پھوٹےاوررنگ برنگ کے پھول کھلے اور اپنی خوشبو سے زمانہ کو معطر کیا ۔
الحمد للّٰہ یہ” گلشن علمی” اب بھی اپنی تمام تر رعنائیوں او شادابیوں کے ساتھ ، قسم قسم کے پھول و پتیاں عطا کر رہا ہے۔
خاندانی حسب ونسب: خاندانی وجاہت مولانا کو ورثے میں ملی تھی۔آپ کاخاندان علاقے کے شرفاء میں شمار کیا جاتا تھا۔ اور اپنے علم وفضل کے لئے مشہور تھا۔ضلع مظفر پور میں مغل بادشاہوں کے ذریعہ فوج کے اعلی عہدیداروں کو کئی جاگیر عطاء کی گئ تھی۔ مغل بادشاہوں کے ذریعہ ایسا ہی ایک جاگیر ضلع مظفر پور کے سکڑا تھانہ کے مشہور مردم خیز بستی رحیم پور جنون عرف رکشا میں بھی اپنے فوج کے اعلی عہد یدار ان کو بھی دیا گیاتھا،جو پشت در پشت عالی جناب شیخ محمد رفیع الدین مرحوم کی وراثت میں ان کے لئے ان کے آباء و اجداد کے ذریعہ آئی ۔ رحیم پور جیون عرف رکشا زمانہ قدیم سے علم کا گہوارہ رہا ہے۔ جس نے اپنے دور کے بڑے بڑے جیّد علماء کرام کو جنم دیا ہے۔حضرت مولانا نعیم الدین قاسمی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا ابو احمد رضا کریم قاسمی رح اور مولانا حافظ محمد مجیب الحق کا نام قابل ذکر ہے۔ مولانا مرحوم کے والد بزرگوار شیخ محمد رفیع الدین صاحب کو اللہ رب العزت نے تین فرزند عطاء کئے۔( اول) جناب محمد الطاف حسین رح ( دوم) مولانا محمد نعیم الدین رح اور (سوم)جناب محمد بدر الحق رح تھے۔( مورخہ ۴/ جون سنہ ۱۹۲۷ء کو مسودہ تقسیم نامہ سے ماخوذ )
سن ولادت وتاریخ ولادت :-حضرت مولانا محمد نعیم الدین رح کی پیدائش رحیم پور جیون عرف رکشا کےایک مہذب ، تعلیم یافتہ اور خوشحال گھرانے میں سنہ ۱۸۹۰ء کو ہوئی.ان کے والد رئیس اور زمیندار تھے اس لئے مولانا کا بچپن خوش حالی اور فارغ البالی میں گزرا۔اس لئے کہ مولانا محمد نعیم الدین مرحوم کے والد بزرگوار اور والدہ کا تعلق مع اللہ تقوی و طہارت ، متانت و وقار اورشائستگی علم و عمل سے تھا ،
اس لئے شروع ہی سے لہب و لعب،بدی و شرارت سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ دینی ماحول میں پرورش ہونے کی وجہ سے ان میں دینی جذبہ موجزن تھا۔ وہ نہایت ہی ذہین و فطین اور حافظہ کےقوی تھے۔علاوہ ازیں علوم دینیہ کے حصول کا جذبہ ان کے اندر بہ درجہ اتم موجود تھا۔والدین نے اپنے فرزند ارجمند کی پرورش و پرداخت اور تربیت بڑے پیار و محبت کے ساتھ کی۔ پورا گھرانہ علم وفضل اور پاکیزہ اعمال و اخلاق میں ڈوبا ہوا تھا۔ ابتدائی تعلیم:- مولانا کی ابتائی تعلیم و تعلم والدین کے زیر نگرانی ایک اچھے اور تجربہ کار معلم سے ہوئی ۔ جب گھر یلو تعلیم سے فارغ ہوئے تو ان کے اندر حصول علوم دینیہ کا شوق مزید بڑھ گیا۔ اور اسی شوق طلب نے وطن چھوڑنے پرمجبور کردیا۔ اپنی عمر کے دسویں سال مولانا مویشی چرانے کے دوران غائب ہو گئے۔ خاندان والوں کو جب پتہ چلا تو تلاش میں نکلے ۔لیکن پتہ نہیں چل سکا۔ گھر کے افراد ان سے ناامید ہو گئے ۔والدین پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ ڑا۔ کیونکہ اللہ تعالی نے ان کے والدین کے دل میں ان کے لئے بے پناہ محبت ڈال دی تھی۔ در اصل خالق کائنات کو مولانا سے ایک زبردست کام لینا مقصود تھا۔ کسے معلوم تھا کہ خالق کائنات کا شیخ محمد رفیع الدین کے نیک فرزند ارجمند سے ایک عظیم کام لینے کا فیصلہ صادر ہو چکا ہے۔ علوم نبوت کی اشاعت کے لئے ایک طویل عرصہ کے بعد حضرت مولانا محمد نعیم الدین صاحب قاسمی ایشیا کے عظیم درسگاہ دارالعلوم دیوبند سے علوم نبوت سے سیراب ہو کر اپنے آبائی وطن اچانک تشریف لائے۔ پورے علاقے میں خوشبوں کی لہر دور گئی۔
ازدواجی زندگی:- مادر علمی دارالعلوم دیوبند سے عربی و اسلامی علوم کے تحصیل کے بعد مولانا کی شادی ایک مشہور و معروف مردم خیز بستی کے ایک خوشحال اور صاحب جائداد گھرانے کے جناب محمد اکرام الحق صاحب کی دختر بی بی زبیدہ خاتون سے ہوئی۔ حضرت مولانا محمد حیب الحق قاسمی رح کا تعلق اسی عظیم خانوادہ سے ہے جو حضرت مولانا نعیم الدین قاسمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ہی شاگرد تھے۔
حضرت مولانا نعیم الدین صاحب رح کو اللہ تعالی نے دو فرزند مولانا ابو محمد رضا کریم قاسمی اور محمد مظہر الاسلام صاحب کی شکل میں عطاء کیا تھا۔حضرت مولانا نعیم الدین قاسمی صاحب کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا ابو محمد رضا کریم قاسمی کی ولادت با سعادت ۲۹/ ستمبر سنہ۱۹۱۶ء کو آبائی وطن رحیم پور رکشا میں ہوئی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی جونکہ ان کے والد محترم مولانا نعیم الدین قاسمی صاحب خود مدرسہ احمدیہ کے مدرس تھے ۔ اس لئے اپنے فرزند ارجمند کو اپنے ساتھ رکھ کر تعلیم و تربیت کرنا مناسب سمجھا ۔لہذا ۲/ستمبر سنہ ۱۹۲۵کو مدرسہ ھذا میں داخلہ کرایا اور اپنی زیر نگرانی تعلیم و تربیت سےآ راستہ کیا، ۲۲ستمبر ۱۹۳۲کو درجہ” ملا” کا امتحان پاس کیا.اور اعلی تعلیم کے غرض سےدیوبندتشریف لے گئے .فراغت کے بعد اپ نے درس و تدریس کا مشغلہ اختیار فرمایا۔
مولانا ابو احمد رضا کریم قاسمی رح نے از ۲/دسمبر سنہ ۱۹۲۵ءتا ۲۲/دسمبر سنہ ۱۹۳۲ء مدرسہ احمدیہ ابابکر پور میں اپنے والد ین کی نگرانی میں”ملا” تک کی تعلیم حاصل کی .یہاں سے فراغت کے بعد عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے . دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد گھر لوٹ آئے۔ اور کھگھڑیا کے کسی مدرسہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دینے لگے۔
مولانا ابو احمد رضا کریم قاسمی رح کی شادی سکڑا تھانہ کے موضع پہاڑ پور میں ایک نامور زمیندار مرحوم عبد العزیز صاحب کی اکلوتی دختر نیک “بی بی محمودہ بیگم” سے ہوئی۔ان کے علاوہ عبد العزیز صاحب کو دوسری اولاد نہ تھی ۔جب مولانا کے والد حضرت مولانا محمد نعیم الدین قاسمی اور مولانا کے خسر محترم جناب عبد العزیز صاحب بہت علیل ہو گئے تو مولانا ابو محمد رضا کریم قاسمی رح کو بادل نخواستہ مدرسہ کو چھوڑنا پڑا۔ مولانا کے سلسلہ نسب میں ان کے بڑے صاحب زادے جناب محمد شکیل احمد صاحب کے دو لڑکے مولانا محمد ذوق ندوی اور مولانا قمر توحید ندوی ، جواں سال عالم دین ہیں اور اپنے جد امجد حضرت مولانا محمد نعیم الدین صاحب رح کے علمی سلسلہ کو آگے بڑھا رہے ہیں ۔حضرت مولانا محمد نعیم الدین صاحب کے چھوٹے فرزند مظہر الاسلام صاحب ابھی باحیات ہیں اور مع اہل وعیال رانی گنج مغربی بنگال میں سکونت پزیر ہیں ۔اللہ رب العزت ان کی عمر میں مزید برکت عطاء فرمائے۔
امین ثم امین
۲۱/ فروری سنہ ۱۹۵۳ء کو بوقت عشاء مولانا محمد نعیم الدین قاسمی صاحب پر بحالت نماز فالج کا حملہ ہوا۔ کچھ عرصہ تک مسلسل ذی فراش رہے۔ سنہ ۱۹۵۸ء میں اس گلشن علمیہ کے مالی و باغبان اس دار فانی سے دار بقاء کی طرف کوچ کر گیا۔(اناللہ واناالیہ راجعون)اور اپنی تعلیمی و تربیتی ، دعوتی و اصلاحی خدمات کے علاوہ انتظامی و انصرامی خدمات کے انمٹ نقوش اپنے پیچھےچھوڑ گئے۔
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے۔
سبزۂ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے۔
محمد شمیم احمد شمسی
سابق پرنسپل مدرسہ احمدیہ ابا بکر پورویشالی بہار رابطہ8294193856

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.