طلاق دینا شیطانی حرکت ہے ، سمجھ کر سمجھا کر زندگی کو نبھائیں / مفتی مستقیم
طلاق دینا شیطانی حرکت ہے ، سمجھ کر سمجھا کر زندگی کو نبھائیں / مفتی مستقیم
مہواویشالی/ عادل شاہ پوری/ ازدواجی زندگی روح کی تسکین کے لئے اور نسل انسانی کی بقاء کیلئے اللہ پاک ایک احسن طریقہ کے ساتھ یعنی نکاح کا دیا جس سے مومن آسانی کے ساتھ صرف ایجاب وقبول کر کے کوئی بھی مومنہ کو اپنی شریکِ حیات بنا لے اور خوشگوار زندگی سے لطف اندوز ہو یہ باتیں حضرت مولانا مفتی محمد مستقیم صاحب صدر مدرس فیضان رسول تجپروا پاتے پور ویشالی نے انور علی انصاری جلال پور بیربھان کے بہن و بھائی کی شادی کے تقریب سے محفل میلاد پاک میں کہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ طلاق دینے سے عرش کا پایا ہل جاتا ہے یہ شیطانی حرکت ہے بہتر یہ ہے کہ ازدواجی زندگی کو سمجھ کر سمجھا کر زندگی کو نبھائیں اس سے عزت والی گزرتی ہے ۔ پھر فرمایا کہ خدا کایہ احسان بھی یاد کرو کہ اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت اتاری جس میں تمہیں خوشگوار زندگی گزارنے کا طریقہ بتایا ، پھر فرمایا کہ اِن سب ہدایات کو معمولی مت سمجھو کیونکہ یہ ساری کائنات کے خالق و مالک اور اَحکم الحاکمین کی طرف سے نصیحتیں ہیں جو وہ بندوں پر رحمت فرماتے ہوئے انہیں کرتا ہے۔ مزید فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ لہٰذا ایسا ہر گز نہیں کہ تم عورتوں پر ظلم کرو ، اُنہیں تنگ کرو ، پریشان کرو اور پھر یہ سمجھو کہ مجھے کوئی پوچھنے والا نہیں اور میں مفت کا فرعون بنا رہوں ، میں جو چاہوں کروں ، میں جیسے چاہوں ، بیوی پر ظلم کروں ، اُسے تنگ کروں ، بیوی کے ماں باپ کو چوراہے میں رُسوا کروں اور دکھ پہنچاؤں یاد رکھیں کہ اللہ ہر شے کو جانتا ہے اور وہ تم سے تمہارے ایک ایک عمل ، ایک ایک حرکت کا حساب لے گا۔ اب دینِ اسلام کی تعلیمات میں طلاق کا اگلا مرحلہ ملاحظہ کریں کہ اگر بالآخر میاں بیوی میں حتمی جدائی ہوجائے تو عموماً دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ شوہر کم ظرفی اور گھٹیاپن کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرتا ہے ، جس کی کئی صورتیں ہوتی ہیں لیکن دین ِ اسلام نے یہاں بھی عورت کی حمایت کی اور بتایا کہ طلاق کے بعد بھی شوہر پر بیوی کے کچھ حقوق باقی ہیں اور وہ یہ کہ شوہر کو حکم ہے کہ بیوی کے ساتھ کم ظرفی اور نِیچ پَن کا مظاہرہ نہ کرے ، بلکہ باوقار رویہ اختیار کرے جس کی ایک واجب صورت یہ ہے کہ شوہر نے حالتِ زوجیت میں بیوی کو جو تحائف دئیے ہوں وہ اس سے واپس مانگنا شروع نہ کر دے ، یہ حرام ہےچنانچہ فرمایا اور تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم نے جو کچھ عورتوں کو دیا ہو اس میں سے کچھ واپس لو طلاق کے بعد شوہر حساب کتاب کرنے بیٹھ جائے کہ شادی پر ہمارا اتنا خرچہ ہوا تھا ، فلاں موقع پر ہم نے اتنی رقم خرچ کی تھی ، فلاں موقع پر بیوی کو یہ تحفہ دیا تھا ، لہٰذا اب یہ ساری رقم بیوی یا اُس کے گھر والے ہمیں ادا کریں۔ شوہر کو حکم دیا گیا کہ یہ حرکتیں نہ کرے اور یہ اس کے لیے ہر گز جائز نہیں ، بلکہ شوہر نے جو کچھ بیوی کو دے دیا ، وہ اب بیوی کا ہے ، شوہر کو اُس میں سے کچھ بھی واپس طلب کرنا حلال نہیں اللہ پاک ہم مومنوں کو عمل صالح کی توفیق عطاء فرمائے آمِین ثم آمین اس موقع سے محفل میں صحافی و شاعر اعجاز عادل شاہ پوری چہرہ کلاں مہواویشالی ، حسان عادل ، حبیبہ میڈیکل اسٹاکس کے خورشید عالم ، اختر حسین ، منٹو بھائی ، شہباز انصاری ، صفدر انصاری ، نوشاد انصاری ، مظفر انصاری ، شہید انصاری ، مسدی انصاری سمیت کئی شخص موجود تھے پروگرام کا آغاز کلام الہٰی سے ہوا بعدہ نعت پاک روشن ویشالوی ، مؤذن صاحب اور عادل شاہ پوری نے پیش کی اور پروگرام کا اختتام خطیب و امام حضرت مولانا اکبر رضا اشرفی صاحب کے دعا پر ہوئی
تصویر میل پر ہے
