*دنیا میں سب سے اچھا انسان وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو مقبول شہبازپوری*
آل انڈیا علماء بورڈ و راشٹریہ مسلم کلیان سنگٹھن کے ضلع صدر تیغی اکیڈمی ٹرسٹ و تنظیم آل بہار ائمہ مساجد کے سربراہ راجد لیڈر مقبول احمد شہبازپوری نے ایک پریس بیان جاری کر کہا ہے کہ آج ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے کہ اخلاق کے معاملے میں چاہے علماء ہو یا عوام، پیر ہوں یا مرید، ان میں اکثر پستی کی طرف گامزن ہیں لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ اخلاق ہی ایک ایسا الہ ہے جس کی بناء پر اپنا تو اپنا ہے غیر کو بھی اپنا گرویدہ بنا سکتے ہیں اور آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ جسکا اخلاق اچھا ہوتا ہے وہی معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور جسکا اخلاق اچھا نہ ہو محلہ کے لوگ تو کیا خود اسکے گھر 🏠 والے بھی نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے اندر حسن اخلاق پیدا کریں اور لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آئیں کیونکہ میزان عمل میں حسن اخلاق سے وزنی کوئی چیز نہ ہو گی، جیسا کہ ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (مامن شئ اثقل فی المیزان حسن الخلق) یعنی حسن اخلاق سے زیادہ بھاری میزان میں کوئی چیز نہیں ہوگی، اور حسن اخلاق سے متصف انسان سب میں بہتر ہوتا ہے جیسا کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان برکت نشان ہے کہ سب سے بہتر وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہو، اور مؤمنوں میں کامل ترین وہ ہے جو بہترین اخلاق کا مالک ہے جیسا کہ فرمان حبیب رحمان ہے (ان من اکمل المومنین ایمان احسنھم خلقا) یعنی مؤمنوں میں سے کامل ترین مومن وہ ہے جو بہترین اخلاق کا مالک ہے، انسانی دل بہت حساس ہوتا ہے لوگوں کی قدر ان کی زندگی میں کریں انھیں اہمیت دیں اپنی زبان سے عمل سے کبھی کسی کا دل نہ توڑیں کسی کو تکلیف نہ دیں دوسروں کے لیے احساس محبت پیدا کریں، مسکرائیں اور نفرت کے اس جہاں میں محبتوں کو فروغ دیں لیکن افسوس ہےکہ ہم لوگ مردہ پرست ہیں جیتے جی کسی کی قدر نہیں کرتے اور مرنے کے بعد اسکے لئے روتے ہیں آنسو بہاتے ہیں، اسکے جنازے کو کندھا دینا افضل سمجھتے ہیں میرے نزدیک سب سے افضل کام کسی جیتے جاگتے انسان کے آنسو پونچھنا ہےاور اسکی قدر کرنا ہے اسکے ٹوٹے ہوئے وجود کو سہارا دیکر سمیٹنا ہے، جب آپ کسی ادھورے شخص کو سمیٹنے کا کام کرتے ہیں، اسے بکھرنے سے سے بچاتے ہیں، اسے اپنے ہی اندر میں مر جانے سے بچاتے ہیں، اسے زندگی کی طرف لے آتے ہیں تو اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی افضل کام نہیں ہو سکتا۔ سمیٹنا سیکھیں، روتی ہوئی آنکھوں کے آنسو پونچھنا سیکھیں، کسی کی کھوئی ہوئی مسکراہٹ کو اسکے ہونٹوں تک رہنے دیجے،