May 2, 2026

NR INDIA NEWS

News for all

*مروجہ اعراس اور جلسے کتنا فائدہ کتنا نقصان مقبول احمد شہبازپوری

*مروجہ اعراس اور جلسے کتنا فائدہ کتنا نقصان مقبول احمد شہبازپوری

جس قدر مروجہ اعراس اور جلسے کی مخالفت ہورہی ہے اسی قدر اس کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ابھی تقریباًایک ماہ سے بالعموم پورے بھارت بالخصوص بہار بنگال جھاڑ کھنڈ اریسہ اور اس میں خاص کر سیمانچل میں مانو جلسوں کا سیلاب آیا ہوا ہے ایک رات میں کئی کئی جلسے ہورہے ہیں مہنگے بیش قیمت گویے بلائے جارہے ہیں خطیر رقم صرف کرکےخطبا وشعرا مدعو کیے جارہے ہیں،
جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے ٧٠فیصد سے زیادہ لوگ دینی شعور اور فکر وعمل سے بے بہرہ ہیں، دو روزہ سہ روزہ جلسے افسوس اچھایہ جلسہ کرانے میں عموماً وہ نوجوان پیش پیش ہوتے ہیں جو دین کے مبادیات سے بھی واقف نہیں ان کا من چاہا تو جلسہ کروالیا کبھی من کیا تو مشاعرہ کروالیا اور زیادہ جوش چڑھا تو قوالی وہ بھی مرد و عورت کے درمیان مقابلہ والی العیاذ باللّٰہ،
خیر مذہبی جلسوں میں ان کی نمائندگی وہ علما اور ائمہ کرتے ہیں جن کو بمشکل سات آٹھ ہزار کی تنخواہ ہوتی ہے، بہت سےجلسہ کرنے والوں کے ساتھ کرانے والوں میں بھی اکثریت ان لوگوں کی ہیں جن کا مقصد دین کے نام پر تجارت ہے کوئی حساب کتاب نہیں
جاہلوں کے ساتھ نام نہاد مولویوں کے درمیان گروپ بندی اور ٹھیکیداری کا کھیل بھی زوروں پر ہے،
رویا جائے یا ہنسا جائےاب تو مقررین شعرا کے القاب کے ساتھ جلسوں کے نام میں بھی کوئی وزن باقی نہیں رہا بے جا القاب وآداب کا استعمال کسی کو تقریر کرنے کیا آگیا وہ اگر چہ کچھ بھی نہ ہو لیکن خطیب اعظم علامہ مفتی اور اب ڈاکٹر پی ایچ ڈی سے لوگ نیچے دیکھنا پسند نہیں کرتے بلکہ اسکول میں پڑھانے والے ماسٹر بھی پروفیسر لکھنے لگے ہیں نعت خوانی کیا آگئی وہ حسان الہند استاذ الشعرا شاعر اعظم سب بن گیا، اور جلسہ خواہ کسی بھی معیار کا ہو نام دیکھو تو انٹرنیشنل کانفرنس آل انڈیا مشاعرہ وغیرہ وغیرہ کیسے کیسےعنوان دے کر جلسے کرائے جارہے ہیں، آپ کو حیرت ہوگی کہ ان بڑے نام والے اکثر جلسوں میں علاقائی اکابر علماء کا نام تک شائع کرنا لوگ گوارہ نہیں کرتے، صدارت قاری صاحب نام نہاد مولوی صاحب اور کہیں کہیں تو گاؤں کے ٹھیکیدار صاحب کررہے ہوتے ہیں،
افسوس نہ کوئی معیاری ادارہ نہ کوئی فلاحی تنظیم اور مساجد میں امام ندارد بعض مقام پر امام ہیں بھی تو کوئی مناسب تنخواہ نہیں لیکن لے جلسہ دے جلسہ
لوگ عموماً علاقائی خطبا شعرا کو مدعو نہیں کرتے اور مدعو کر بھی لیے تو نذرانہ دیتے وقت لگے گا وہ آپ پر احسان کررہے ہوں
دور سے بلائے گیے علما خطبا شعرا کی عزت واحترم ہو لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اپنے علاقائی علما سے چشم پوشی کی جائے دوسروں کے لیے ڈھیر سارا نذرانہ پروٹوکول اور اپنوں کے لیے جیب میں پیسہ ندارد
اگر آپ علاقے کے ہیں اچھے خطیب ہیں اچھے شاعر ہیں تو آپ بھی یاد کیے جائینگے لیکن کب تب جب جنازہ ہوگا ایصال ثواب شادی بیاہ کی محفل ہوگی اگر آپ نے جانے سے انکار کردیا اور کہا کی یہ تاریخ خالی نہیں ہے تو خیر نہیں اور اگر نذرانہ کی جانب اشارہ کردیا تو آپ سے بڑا مجرم کوئی نہیں
اچھا آپ کے نذرانے سے عوام کو کم آپ کے یہاں کے مولوی حضرات زیادہ اذیت محسوس کرینگے، ہاں آپ کسی کی ذاتی انفرادی تقریب میں پہنچ گیے تو یہ کہکر آپ کو کسی بڑے جلسے میں نہیں بلایا جائیگا کہ آپ گھر کے ہیں اور لوگ آپ کو سنتے رہتے ہیں اگر بلابھی لیا تو آپ سے بے ٹائم نعت خوانی یا تقریر کرائی جائے گی،
خیر دوجملے لکھنے چلا تھا لیکن بات طول پکڑ گئی اللّٰہ بھلاکرے میں کلی طور پر جلسوں کا مخالف نہیں ہوں البتہ اتنا ضرور ہے کہ بے مقصد ہنگامی اور جاہلوں کی قیادت والے جلسوں کو پسند نہیں کرتا جلسے ہوں بامقصد ہوں مختصر بجٹ میں ہوں گھر باہرسارے علما کے لیے نظر اور نظریہ ایک ہو، جلسہ سے پہلے تاریخ کے ساتھ آغاز اور اختتام کا بھی وقت معین کرلیں عموماً دیر رات تک چلائے جانے والے جلسوں کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا رات کے بارہ ایک بجے تک اور رات بھر چلائے جانے والوں جلسوں سے زیادہ گاؤں گاؤں مکاتب مدارس مساجد ائمہ اور اساتذہ کی طرف توجہ دی جائے اور بہتر مثبت نظام کی کوشش کی جائے،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.