ملی و فلاحی سرگرم سماجی کارکن امان اللہ خان صاحب حاجی پور ی
ملی و فلاحی سرگرم سماجی کارکن امان اللہ خان صاحب حاجی پور ی
سابق پرنسپل محمد شمیم احمد شمسی،مدرسہ احمدیہ ابا بکر پور ویشالی
مہواویشالی / عادل شاہ پوری/ راجدھانی پٹنہ کے قلب میں واقع حاجی پور کے باشندہ ہر دل عزیز غریب پرور ملی و فلاحی ادارہ مدرسہ فلاح المسلمین کی تعمیر وترقی کے لیے سرگرم رکن اور سماجی کارکن جناب امان اللہ خان صاحب کی ولادت 15 جولائی 1947 کو محلہ بندریہ باولی حاجی پورویشالی میں ایک معزز تعلیم یافتہ و خوشحال گھرانے میں ہوئی آپ کےدادا عالی جناب عمر دراز خان ایک ایماندار انتہائی خلیق ملنسار خوش مزاج اور با اثر تاجر تھے اس کے علاوہ اسلامی طریقے پر زندگی گزارنے والے صوم و صلاۃ کے پابند مخلص و مشفق خصلت کے حامل انسان تھے حق گوئ اور بے باکی کی وجہ سے شہر حاجی پور اور اس کے گرد و نواح میں ان کی اپنی شناخت تھی مرحوم کے اندر بہت ساری خوبیاں تھیں ان میں ان کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ ہمیشہ غریبوں اور بے سہاروں کو بھرپور امداد کرنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتے تعلیم سے کافی دلچسپی تھی زیادہ تر اوقات دینی کتابوں کے مطالعوں میں گزارتے موصوف خان صاحب کے والد بزرگوار اقبال احمد خان مرحوم اردو مڈل اسکول اورائ ضلع مظفرپور میں ہیڈ ماسٹر کے منصب پر فائز تھے ایک با صلاحیت تجربہ کار اور باکمال استاد تھے درس و تدریس کے فرائض بڑی پابندی اور ایمانداری سے انجام دیتے ہوئے 19 ستمبر 1961 کو داعی اجل کو لبیک کہا۔مرحوم کی علم دوستی علما کا ا کرام عجزوانکساری بڑوں کا احترام طلباء کے ساتھ محبت و شفقت اور جذبہ خدمت انسانی بہت نمایاں تھا۔جناب امان اللہ خان حاجی پوری ابن ماسٹر اقبال احمد خان کی ابتدائی تعلیم والدین کی زیر نگرانی ہوئی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی اس کے بعد آپ کا داخلہ اورائی مڈل اسکول میں کرایا گیا آپ نے اپنی خداداد ذہانت فہم و فراست اور قوت حافظہ کی بدولت اچھے نمبر ات سے کامیابی حاصل کی اور اسی طرح اورائی ہائی اسکول ضلع مظفرپور سے امتیازی نمبرات سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ذہانت محنت اور لگن اور علم سے بے پناہ دلچسپی کو دیکھتے ہوئے آر۔ این ۔ کالج میں داخلہ کرایا گیا اور آپ نے اپنی محنت و لگن سے تعلیمی سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پریویس کے امتحان میں بھی کامیابی حاصل کیں۔خان صاحب نے اس خانوادے کی دولت و عشرت میں پرورش پائی،ان کا بچپن بے حد ناز و نعم میں گزرا لیکن والد کا دوران ملازمت موت کا خان صاحب کی شخصیت پر گہرا اثر ہوا اور ان کی زندگی تمام آسائشوں کی فراہمی کے باوجود کئی الجھنوں اور مسائل کا شکار ہو گئے ۔خان صاحب نے نامساعد حالات کو صبر و تحمل اور محنت و حوصلے کے ساتھ مقابلہ کیا آپ نے اپنی زندگی کی تلخی کو بڑے ہی خندہ پیشانی سے برداشت کیے۔ خان صاحب کوناموافق حالات سے لرنےکی عادت فطرت میں شامل ہےانہوں نے ناموافق حالات کارونانہیں رویااور نہ پیدرم سلطان بود کی تسبیح پڑھابلکہ عمل وپیہم سعی مسسل سے حالات کو سازگار بنانے کی کوشیش کی دوران طالب علمی ملازمت کے لیے کوشش جاری رکھا بالآخر 1967 میں پی ڈبلیو ڈی میں سرکاری ملازمت پر مامور ہو گئے اپنے فرائض و منصب کو بحسن خوبی انجام دیتے رہے۔ طالب علمی کے ایام سے ہی دینی ملی تعلیمی تنظیمی سماجی اور سیاسی سرگرمیوں سے خاص دلچسپی رکھنے والے خان صاحب پی ڈبلیو ڈی میں کوالٹی کنٹرول کے مختلف عہدوں پر رہتے ہوئے بعدہ نیشنل ہائوے آفس پٹنہ سے جولائی 2007 کو سبکدوش ہوئے۔ موصوف امان اللہ خان صاحب نہایت شریف اور مخلص شخصیت کے حامل انسان ہیں آپ شکلا گرم مزاج دکھتے ہیں لیکن اصل نرم مزاج ہیں سنجیدہ گفتگو کرتے ہیں آپ شریف النفس انسان کے علاوہ انتہائی خوش مزاج بھی ہیں اپ کی زندگی کا بیشتر حصہ مذہب و ملت کی خدمت اور فلاحی امور میں گزرتا ہے آپ ہمیشہ ملت کو اتحادو اتفاق کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی تلقین بھی کرتے ہیں۔
خان صاحب کی قابلیت اور گوناگوں صلاحیتوں سے متاثر اہل علم دانشوران اور معززین نے معروف و مشہور ادارہ مدرسہ فلاح المسلمین کا صدر مقرر کیا آپ اس منصب کے نازک اور اہم ذمہ داریوں کو وقار و احترام سے نبھایا اور مدرسہ کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا مذکورہ آپ کی توجہات و جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ معیاری تعلیم کے حوالے سے مدرسے کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ مدرسہ ہذا کو تعلیمی و تعمیری اعتبار سے بلندی پر پہنچا نے والوں میں آپ کا، صدر المدرسین مولانا نیاز احمد قاسمی کا نام نمایاں اور اہم ہے،یہ الگ سی بات ہے کہ ان دنوں مدرسے میں طلبہ کی تعداد بھلے ہی کم ہے طلبہ کی ضرورت مدرسے کو ہے مخلصین اپنے اپنے نونہالوں کو مدرسہ اسلامیہ انجمن فلاح المسلمین میں بیھج کر دنیا اور دین دونوں جگہ سرخروئی حاصل کریں۔
موصوف ایک طویل مدت تک اس منصب جلیل پر فائز ہیں اور مدرسہ کی ترقی کے لیے کوشاں ہیں۔ صدر المدرسین مولانا نیاز احمد قاسمی ،حافظ محمد جہانگیر شاہپور خرد جہاں ایک باصلاحیت استاد ہیں وہیں خان صاحب تجربہ کار اور بہترین منتظم ہیں آپ سنی وقف بورڈ کے سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہیں جبکہ ضلعی اوقاف کمیٹی کا راقم الحروف مولانا محمد شمیم احمد شمشی بھی ممبر ہے،خان صاحب سے تعلقات نائب ناظم امارت شرعیہ حضرت مولانا محمد ثناء الہدی قاسمی ۔ مفکر ملت حضرت مولانا انیس الرحمن صاحب قاسمی آل انڈیا ملی کونسل ڈاکٹر کلیم اشرف اور مجاہد ویشالی مولانا محمد قمر عالم ندوی صحافی شاہ نواز عطا ، نوجوان شاعر و صحافی اعجاز عادل شاہ پوری ، ماسٹر امتیاز انصاری جنداہا ، سے گہرے ہیں۔ خان صاحب کے تمام قدسیہ صفات کے ساتھ ساتھ خان صاحب کی سادگی کی وجہ سے لوگ اکثر پہچان نہیں پاتے تھے معمولی کرتا اور معمولی قسم کا پاجامہ سر پہ معمولی سی ٹوپی ان کی زندگی کا اہم لباس رہا ہے یہی خاکساری نے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنالی ہے ابھی بھی خان صاحب پرانی سائیکل ہی استعمال کرتے ہیں اور اسی پر چل کر چلا کر اپنی ضروریات زندگی کو بخوشی پورا کر لیتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سادگی ان کی رگ و پے میں شامل ہےاللہ سے دعا ہے کہ خان صاحب کے تعلقات اکابر سے اسی طرح برقرار رہے اور مدرسے کی ترقی فی الحال ان کی نگرارنی میں رواں دواں ہے اللّٰہ اس مدرسہ کو مزید ترقی عطاء فرمائے ۔ آمین ثم آمین
تصویر میل پر ہے
