May 2, 2026

NR INDIA NEWS

News for all

کے زیرِ اہتمام آن لائن مشاعرے کا انعقاد مہوا ویشالی/ شبانہ فردوس

دبستان سخن کے زیرِ اہتمام آن لائن مشاعرے کا انعقاد

مہوا ویشالی/ شبانہ فردوس / دبستان سخن شاخ ویشالی کے زیر اہتمام گزشتہ شب آن لائن مشاعرے کا انعقاد کہنہ مشق شاعر پروفیسر ناظم قادری سنگھاڑہ ویشالی کی صدارت اور ہردلعزیز جواں سال شاعر اعجاز عادل شاہ پوری کی نظامت میں ہوئی جس میں ضلع ویشالی کے کئی شعراء نے شرکت کی اور سامعین کو اپنے کلام سے محظوظ کئے پسندیدہ چند اشعار قارئین کے نذر ہیں ملاحظہ فرمائیں
ناظم مقام شوق میں صحرا نورد کی
آنکھوں میں رقص کرتے ہیں جلوے جمال کے
پروفیسر ناظم قادری
روٹھنے والے اپنے بچوں کو
پیار سے ماں ہی گھر بلاتی ہے
قمر سمستی پوری
افسوس اب وہ خوئے سخاوت نہیں رہی
انساں کے دل میں پیار کی دولت نہیں رہی
بشر رحیمی مہوا
صبح نو آئیگی لیکر مری منزل کا پتہ
اور کچھ دیر اندھیروں کا گزر ہونے دو
اعجاز عادل شاہ پوری
ہم تماشائی رہے بیٹھے جہاں میں کیوں کر
بے گناہی کا الزام بھی سر ہونے تک
صلاح الدین رضوی
اظہر مری بلند خیالی تو دیکھئے
دنیا کے میں نے جھکا یا یہ سر نہیں
ڈاکٹر اظہار الحق اظہر
خوبیاں گر پر کشش ہوں تو اثر ہوا ہے یہ
تتلیاں کھینچ تی چلی جاتی ہے گلشن کی طرف
ثانیہ فرحت جمال حاجی پور

پروگرام کے اختتام کے بعد صدارتی خطبہ میں صدر محترم جناب ناظم قادری نے کہا کہ علم سے شاعری نہیں آتی شاعری تو اس بیتابی جزبات کا اظہار ہے جو کسی فا رمولے کے تحت ممکن نہیں ہے فن شاعری کا آہنگ ایک ڈھانچے کا متقاضی ضرور ہے لیکن ایک فطری شاعر میں اس کا شعور بھی فطری ہوتا ہے جسے علامہ اقبال نے یوں کہا کہ

مری مشاطگی کی کیا ضرورت حسن معنی کو
کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالہ کی حنا بندی

آج کے مشاعرے میں ہر شاعر کا کلام فطری تھا اور کسوٹی پر جچا تلا شعر تھا جس کو سن کر دل باغ باغ ہوا اس کے لئے میں ” دبستان سخن ” کی طرف سے مبارکباد پیش کرتا ہوں انہوں نے ایک طرف خوشی کا اظہار تو کیا مگر دوسری طرف افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں ہمارا ادب کئی طرح کی افرا تفری کا شکار رہا ہے جگہ جگہ اچھی شاعری کا بازار سرد ہوا اور اوسط سے بھی کم درجے کی شاعری کا بازار گرم ہوتا ہوا نظر آتا ہے آج کوئی بھی ادبی رسالہ اٹھا لیجئے شاعری کا حصہ پڑھ کر مایوسی ہوتی ہے وہ اسلئے کہ روز مرہ کی معمولی باتوں ،اخباری مشاہدوں،ٹی وی کی خبروں اور بازار کی گپ شپ کو کمزور الفاظ میں منظوم کردینے کا نام شاعری قرار پایا ہے جو ادبی دنیا کے لئے بہت افسوس کی بات ہے اگر یہی حال شاعری کا رہا تو جو زندگی میں تخیل کی آمیزش اور تخیل میں زندگی کی آمیزش کا فن ختم ہو جائے گا اور شاعری بے سود ہوکر رہ جائے گی مندرجہ بالا باتوں کو تنقید نہ سمجھ کر فصاحت اور بلاغت کی راہ ہموار کرنے ضرورت ہے تاکہ شاعری کی چاشنی باقی رہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.