بزمِ سخنوران کا 71 واں طرحی مشاعرہ
بزمِ سخنوران کا 71 واں طرحی مشاعرہ
مہواویشالی/ عادل شاہ پوری/ بزمِ سخنوران انٹرنیشنل مہواویشالی کا 71 واں طرحی مشاعرہ کا انعقاد کہنہ مشق شاعر جناب نیاز نذر فاطمی صاحب کی صدارت میں اور طنز مزاح کے نامور شاعر جناب رہبر گیاوی المعروف چونچ گیاوی کی نظامت میں شب کے 8 بجے سے منعقد ہوا۔ اس مشاعرے میں جن شعراۓ کرام نے شرکت فرمائی ان کے نام اور نمونۂ کلام کچھ اسطرح ہیں۔
عنایت علی
پڑھ کے صل علیٰ یارسول خدا
نام لوں آپ کا یارسول خدا
1- نیاز نذر فاطمی
جو لب کھولتے تو ترا نام آتا
ہوا راز پنہاں کا اظہار مشکل
2- اکرام آزر
جلتے بجھتے جگنوؤں کے شہر میں
چاند کی مانند ہم تنہا رہے
3- پروفیسر ناظم قادری
پرکشش ان کی نظر ان کا جمال
آج تک دیکھا نہیں شیدا رہے
4- حسرت صفی پوری
خواب ہے خواب ہی رہے گا یہ
میری تاریخ کو مٹانے کا
5- بشر رحیمی
اب تو آجائیے عیادت کو
حال ابتر ہوا دوانے کا
6 – نثار ردولوی
اب محبت وہ سمجھا ہے شائد
اب ارادہ ہے دل لگانے کا
7- نور سلطان پوری
سر بکف ہوکے آج نکلا ہے
دل میں ہے عزم سرکٹانے کا
8- سبطین پروانہ
وہ اگر ہنستاہے تو ہنستا رہے
کیا ضروری ہے کہ سب روتا رہے
9- اکبر چنوری
ہو نہ رسوائی مقدس پیار کی
نام دنیا میں سدا اونچا رہے
10- اظہار الحق اظہر
وہ الیکشن میں جیت جائے گا
ہے چلن اس کو خوں بہانے کا
11- واصف القادری
اب سیاست فقط تجارت ہے
ایک ذریعہ ہے یہ کمانے کا
12- ڈاکٹر نصر عالم نصر
روشنی اس کو میسر ہوگئ
گھر مرا جلتا ہے تو جلتا رہے
13 – قمر شمشی چک اولیاوی
قلب میں آخر اتر جاتا ہے عشق
دل پہ چاہے عقل کا پہرہ رہے
14- صفدر ہاشمی
ہے پتہ آج ان کے آنے کا
حال پوچھو نہیں دوانے کا
15- سعید قادری
بات کرتا ہے وہ سلیقے سے
وہ معلم ہے اس زمانے کا
16- قمر شاہدی آسام
آخرش ملناہی تھا اس کو جواب
ظلم بھی کب تک کوئی سہتا رہے
17- ایوب عادل ہگلی
یہ ضروری تو نہیں ہر بزم میں
آپ کا ہی تذکرہ چلتا رہے
18-رہبر گیاوی
وقت گزارا ہے چوٹ کھانے کا
اب نہیں اس کو آزمانے کا
19 – اعجاز عادل شاہ پوری
کوششیں میری رنگ لائیں گی
رنگ بدلے گا پھر زمانے کا
پروگرام کا اختتام بوقت 11بجے شب صدر مشاعرہ کے خطبۂِ صدارت اور بزم کے چیف ایڈمن استاد شاعر پروفیسر ناظم قادری شعبۂِ اردو این ۔این۔ کالج سنگھاڑہ ویشالی کے اظہار تشکر کے بعد کیا گیا۔
تصویر میل پر ہے
